ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریت نکالنے کی نئی پالیسی جاری ہونے کے بعد غیر قانونی ریت کا دھندا قابو میں آگیا۔ کمٹہ میں وزیر معدنیات سی سی پاٹل کا بیان

ریت نکالنے کی نئی پالیسی جاری ہونے کے بعد غیر قانونی ریت کا دھندا قابو میں آگیا۔ کمٹہ میں وزیر معدنیات سی سی پاٹل کا بیان

Fri, 08 Jan 2021 20:41:41    S.O. News Service

بھٹکل 8؍جنوری (ایس او نیوز) ندیوں سے ریت نکالنے اور اس کی سربراہی کے تعلق سے مسائل کے حل اور صورتحال کا جائز ہ لینے کے لئے وزیر معدنیا و ارضیات سی سی پاٹل نے ساحلی علاقے  کا دورہ کیا۔ 

 سب سے پہلے انہوں نے جنوبی کینرا اور اڈپی ضلع کا دورہ کیا اور شمالی کینرا کے دورے کے لئے کمٹہ تشریف لائے۔ ان تمام مقامات پر ضلعی افسران اور متعلقہ محکمہ جات کے ذمہ داران کےساتھ جائزاتی نشستوں کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتےہوئے انہوں نےکہا کہ ریت نکالنے اور اس کی سپلائی کے تعلق سے ریاستی حکومت نے جو نئی پالیسی وضع  کی ہےاس کے بعدریت کے  غیر قانونی سپلائی پر بڑی حد تک روک لگ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع جنوبی کینرا اور اڈپی میں ریت کی سربراہی سے متعلق تمام مسائل آئندہ دس پندرہ دنوں میں حل کیے جائیں گے۔ یہا ں پر ہورہی لال پتھروں کی غیر قانونی کانکنی  کے خلاف انہوں نے سخت کارروائی کرنے کا انتباہ دیا۔

 کمٹہ میں منعقدہ جائزاتی نشست میں ایم ایل اے دینکر شیٹی نے وزیرموصوف  کو یہاں ریت سے متعلق مسائل کے  تفصیلات سے آگاہ کیا۔انہوں نے درخواست کی کہ ریت کی روایتی کانکنی کرنے والوں کی ایسوسی ایشن نے جو مانگ رکھی  ہے اس کے مطابق ریت نکالنے اور سربراہی کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس کے علاوہ ریت کی بین الاضلاع سربراہی کے لئے بھی اجازت نامہ فراہم کیا جائے۔دیہی علاقوں میں اپنے چھوٹے موٹے کمرے ، بیت الخلاء وغیرہ تعمیر کرنے والے افراد کو ریت آسانی سے حاصل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ اس ضمن میں لوگوں کو جو مشکلات درپیش ہیں انہیں حل کرنے کی طرف افسران کو توجہ دینا چاہیے۔

 وزیر سی سی پاٹل نے ایم ایل اے کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ امسال برسات بہت زیادہ لمبے عرصے تک جاری رہنے کی وجہ سے ریت نکالنے کی اجازت دینے میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نےکہا کہ ریت نکالنے کے دوران اگر ضلع میں سی آر زیڈ قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو پھر سپریم کورٹ ریاستی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرے گا۔اس لئے سی آرزیڈ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مسائل کو حل کیا جائے گا۔

وزیر موصوف نے بتایا کہ دوسرےاضلاع کو ریت سپلائی کرنے پر کوئی  قانونی پابندی  نہیں ہے، لیکن اس کا خیال ضرور رکھنا ہوتا ہے کہ مقامی طور پر ریت کی کمی سے کوئی بحران پیدا نہ ہونے پائے۔دیہی علاقوں میں چھوٹی موٹی تعمیرات کے لئے متعلقہ گرام پنچایت سے اجازت نامہ لے کر ریت  سپلائی کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔


Share: